نبوت کے متعلق عقائد جن کے ذریعے انسان سچا مسلمان بنے

نبوت کے متعلق عقائد جن کے ذریعے انسان سچا مسلمان بنےگا۔مسلمانوں کے لیے جس طرح ذات و صفات کا علم رکھناضروری ہےاسی طرح عقیدہ کا مضبوط ہونا ضروریہے

0 346

نبوت کے متعلق عقائد جن کے ذریعے انسان سچا مسلمان بنے

نبوت کے متعلق عقائد جن کے ذریعے انسان سچا مسلمان بنےگا۔مسلمانوں کے لیے جس طرح ذات و صفات کا علم رکھناضروری ہےاسی طرح عقیدہ کا مضبوط ہونا ضروریہے

مسلمانوں کے لیے جس طرح ذات و صفات کا علم رکھناضروری ہے، کہ کسی ضروری چیز کا انکار اسے کافر نہ کر دے، اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کے لیے اللہ تعا لی نے کیاجائز اور کیا واجب اور کیا محال ہے، کہ واجب کا انکار اور محال کا اقرار موجب کفر ہے ۔

عقیدہ (): نبی اس بشر کو کہتے ہیں جس پر اللہ تعالی کی طرف سے مخلوق کی ہدایت  رہنمائی کے لیے وحی نازل ہو اور رسول بشر ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے بلکہ فرشتوں میں بھی رسول ہیں ۔

عقیدہ (): سب انبیا بشر اور مرد تھے ، اللہ تعالی نے کسی جن اور عورت کو نبی نہیں بنایا ۔

عقیدہ (): اللہ عزوجل پر لازم نہیں کہ نبی کوبھیجے ، اللہ تعالی نے اپنے فضل وکرم سے انسانوںکی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیا بھیجے ۔ عقیدہ (): نبی وہی ہوتا ہے جس پر وحی نا زل ہواس سے ثابت ہوا کہ وحی نبی کے لیے ضروری ہے، خواہ فرشتہ کی معرفت ہو یا بلا واسطہ۔

نبوت کے متعلق عقائد

عقیدہ (): بہت سے انبیاء پر اللہ تعالی نے صحیفے اور آسمانی کتابیں انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی ہیں، ان میں سے چار کتابیں ہیں جن کا ذکر درج ذیل ہے : تورات حضرت موسی علیہِ السلام پر، زبور حضرت داد علیہِ السلام پر ، اِنجیل حضرت عیسی علیہِ السلام پر، قرآنِ مجید سب سے افضل کتاب ہے،جو حضور پر نور احمدِ مجتبی محمدِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم پرنازل فرمائیںہیں۔کلامِ الہی میں سب کتابیں افضل ہیں لیکن سب سے زیادہ افضل قرآن پاک ہے جو آخری کتاب ہے اس کا مطلب ہوا کہ ہمارے لیے اس میں ثواب زائد ہے ،

عقیدہ (): سب آسمانی کتابیں اور صحیفے حق ہیں اوریہ سب کلام اللہ یعنی اللہ تعالی کا کلام ہے ، ان میں جو کچھ بیان ہوان سب پر ایمان لانا ضروری ہے، مگر یہ بات البتہ ہوئی کہ پہلے نازل ہونے والی کتابوں کی حفاظت اللہ تعالی نے امتوں کے سپرد کی تھی، ان سے اس کی حفاظت نہ ہوسکی، کلامِ الہی جیسا نازل ہوا تھا ان لوگوںنے اس میں تبدیلی کرلی جس کی وجہ سے ویسا باقی نہ رہا، بلکہ ان کے لوگوں نے تو ان میں تحریفیں کر دیں ، یعنی اپنی مرضی اپنے مفاد کے لیے کمی پیشی کر دی۔

لہذا ان کتابوں کی جب کوئی بات ہمارے سامنے آئے گی تو اگر وہ ہماری کتاب کے مطابق ہوئی تو ہم اس کی تصدیق کریں گے اور اگر مخالف ہوئی تو یقین جانیں یہ ان کی تحر یفات سے ہے ہم اس بات کی نہ تصدیق کریں نہ تکذیب، بلکہ یوں کہیں کہ:

امنت بِاللہِ وملئِکتِہ وکتبِہ ورسلِہ۔

اللہ (عزوجل) اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ہمارا ایمان ہے۔

عقیدہ (): چونکہ یہ دین اسلام ہمیشہ رہنے والا ہے، لہذا قرآنِ عظیم کی حفاظت اللہ عزوجل نے اپنے ذِمہ لیاور فرماتا ہے:

اِنا نحن نزلنا الذِر و اِنا لہ لحفِظون
بے شک ہم نے قرآن اتارا اور بے شک ہم اس کے ضرور نگہبان ہیں ۔

لہذا اس میں کسی حرف یا نقطہ اور زیر، زبر، پیش کی کمی بیشی نہیں ہے، اگرچہ ساری دنیا اس کو تبدیل کرنے پر جمع ہو جائے تواس میںکوئی سورت،آیات ،حرف بھی تبدیل نہیںسکتے بلکہ ایک حرف بھی اگر کسی نے کم کر دیا، یا بڑھا دیا، یا بدل دیاتووہ کافر ہے، کیونکہ اس نے اس آیت کا انکار کیا۔

عقیدہ (): قرآنِ مجید، اللہ کی کتاب ہے،خود دلیل ہے۔

نبوت کے متعلق عقائد
و اِن نتم فِی ریب مِما نزلنا عل عبدِنا فاتوا بِسور مِن مِثلِہ-و ادعوا شہدآم مِن دونِ اللہِ اِن نتم صدِقِین()فاِن لم تفعلوا و لن تفعلوا فاتقوا النار التِی و قودہا الناس و الحِجار ۖ-اعِدت لِلفِرِین(

اگر تم کو اس کتاب میں جو ہم نے اپنے سب سے خاص بندے ( محمد صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم) پر اتاری کوئی شک ہو تو اس کی مثل کوئی چھوٹی سی سورت کہہ لا اور اللہ کے سوا اپنے سب حمایتیوں کوبلالو اگر تم سچے ہو تو اگر ایسا نہ کرسکو اور ہم کہے دیتے ہیں ہرگز ایسا نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈروجس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

لہذا کافروں نے اس کے مقابلے میں بہت کوششیں کیں ، مگر اس کی مثل ایک سطر نہ بنا سکے نہ ۔

مسئلہ : اگلی کتابیں انبیا ہی کو زبانی یاد ہوتیں تھیں قرآنِ مجید عظیم معجزہ ہے کہ مسلمانوں کا بچہ بچہ یاد کر لیتا ہے۔

عقیدہ (): قرآنِ مجید نے اگلی کتابوں کے بہت سے احکامات منسو خ کر دیے ۔ قرآنِ مجید کی بعض آیتوں نے بعض آیت کو منسوخ کر دیا۔

نبوت کے متعلق عقائد
عقیدہ (): نسخ کا مطلب یہ ہے کہ بعض احکامات کسی خاص مدت کے لیے ہوتے ہیں ، مگر یہ ظاہر نہیں کیا جاتا کہ یہ حکم فلاں وقت تک ہے، جب وقت کی میعاد پوری ہوجاتی ہے تو دوسرا امر جاری ہو جاتا ہے، جس سے بظاہر یہ چلتاہے کہ وہ پہلا حکم منسوخ ہوگیا اور حقیقت میں پتا ہے کہ وقت ختم ہو گیا ہے ۔ بعض لوگ منسوخ کے معنی باطل لیتے ہیں ، یہ بہت سخت بات ہے، احکامِ الہیہ سب حق ہیں ، وہاں باطل کی گنجائش نہیں۔

عقیدہ (): قرآن کی بعض باتیں محکم ہیں کہ ہماری سمجھ میں آجاتیں ہیں اور بعض متشابہ کہ ان کا پورا مطلب اللہ اور اللہ کے حبیب (عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہِ وسلم) اللہ اوراس کے حبیب کے سوا کوئی نہیں جانتا، متشابہ(ایک جیسا) کی تلاش وہی کرتا ہے جس کے دل میں کجی ہو)۔

عقیدہ (): وحی انبیا کے لیے خاص ہے ، جو اسے کسی اورانسان کے لیے مانے کافر ہے۔ نبی کو خواب میں جس چیز کے بارے علم ہووہ بھی وحی ہے، اس کے جھوٹے ہونے کا احتمال نہیں ۔ ولی کے دل میں بعض اوقات سوتے یا جاگتے ہوئے کسی بات کا اِلقا ہوتاہے، اس کو اِلہام کہتے ہیں

اللہ اعلم حیث یجعل رِسالتہ۔()

ذلِ فضل اللہِ یتِیہِ من یشآ-و اللہ ذو الفضلِ العظِیمِ ()

اور جو اِس بات پر عمل کرے کہ آدمی اپنے کسب و ریاضت سے منصبِ نبوت حاصل کرسکتا ہے، وہ کافر ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

عقیدہ (): جو انسان نبی سے نبوت کے زوال کو جائز کہے وہ بھی کافر ہے۔

نبوت کے متعلق عقائد

عقیدہ (): نبی کا معصوم ہونا لازم ہے اور اس بات کا علم ہونا ضروری ہے، کہ انبیاء رسول اور فرشتوں کے سوا کوئی معصوم نہیں ۔
اماموں کو نبیوں کی طرح معصوم جاننا گمراہی ہے۔ عصمتِ انبیا کے یہ معنی ہیں کہ ان کے لیے حفظِ الہی کا وعدہ ہو لیا، جس کے سبب ان سے صدورِ گناہ شرعا محال ہے ۔بخلاف ائمہ ۔اکابر اولیاکرام کو بھی اللہ عزوجل گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے، ان سے گناہ ہوتا نہیں ، مگر ہو تو شرعا محال بھی نہیں ۔

عقیدہ (): اللہ تعالی نے انبیا علیہِم السلام پر اپنے بندوں کے لیے جو احکام نازل کئے۔ انھوں نے وہ سب عوام الناس تک پہنچا دیے، جو یہ کہے کہ کسی نبی نے کوئی حکم پوشیدہ رکھا، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے،وہ کافر ہے۔

عقیدہ (): انبیا ء کے جسم کا برص و جذام وغیرہ ایسے امراض سے پاک ہے جن سے نفرت ہوتی ہے، پاک ہونا ضروری ہے۔

عقیدہ(): انبیا علیہِم السلام کو اللہ عزوجل نے اپنے پوشیدہ رازپر اطلاع دی ، زمین و آسمان کا ہر ذرہ ہر نبی کے پیشِ نظر ہے۔ مگر یہ علمِ غیب ان کو اللہ عزوجل کی طرف سے عطاہوا اور علمِ عطائی اللہ عزوجل کیلیے محال ہے، کہ اس کی کوئی صفت، کوئی کمال کسی کا دیا ہوا نہیں ، بلکہ ذاتی ہے۔ جو لوگ انبیا بلکہ سید الانبیا صلی اللہ تعالی علیہ وعلیہم وسلم سے مطلق علمِ غیب کی نفی کرتے ہیں ، وہ قرآنِ عظیم کی اس آیت کے مصداق ہیں :

نبوت کے متعلق عقائد

{ افتمِنون بِبعضِ الِتبِ و تفرون بِبعض-

یعنی: قرآنِ عظیم کی بعض باتیں مانتے ہیں اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہیں ۔

اور اولیا کو بھی علمِ غیب عطائی ہوتا ہے، مگر بواسطہ انبیا کے۔

عقیدہ (): انبیائے کرام، تمام مخلوق اور ملائکہ سے افضل ہیں ۔ ولی کتنا ہی بڑا مرتبہ مقام رکھتا ہو، کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا۔ جو کسی غیرِ نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے، کافر ہے۔

عقیدہ (): نبیوں کی تعظیم فرضِ عین بلکہِ تمام فرائض سیافضل فرض ہے۔ کسی نبی کی ادنی توہین بھی کفر ہے۔

عقیدہ (): حضرت آدم علیہِ السلام سے لے کر ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم تک اللہ تعالی نے بہت سے انبیاء کو بھیجا، ا ان میں سے کچھ کا ذکر قرآنِ مجید میں ہے اور کچھ کاذکر نہیںہے۔، جن کے اسمائے مبارک قرآنِ مجید میں ہیں ، وہ یہ ہیں:

ختم نبوت قرآننبوت کے متعلق عقائد اور احادیث کی روشنیحضرت آدم علیہِ السلام ، حضرت نوح علیہِ السلام ، حضرت ابراہیم علیہِ السلام ، حضرت اسماعیل علیہِ السلام ، حضرت اسحاق علیہِ السلام ، حضرت یعقوب علیہِ السلام ، حضرت یوسف علیہِ السلام ، حضرت موسی علیہِ السلام ، حضرت ہارون علیہِ السلام ، حضرت شعیب علیہِ السلام ، حضرت لوط علیہِ السلام ، حضرت ہود علیہِ السلام ، حضرت داود علیہِ السلام ، حضرت سلیمان علیہِ السلام ، حضرت ایوب علیہِ السلام ، حضرت زکریا علیہِ السلام ، حضرت یحی علیہِ السلام ، حضرت عیسی علیہِ السلام ،حضرت الیاس علیہِ السلام ، حضرت الیسع علیہِ السلام ،
حضرت یونس علیہِ السلام ، حضرت ادریس علیہِ السلام ، حضرت ذوالکفل علیہِ السلام ، حضرت صالح علیہِ السلام ، حضرت عزیرعلیہِ السلام ، حضور سید المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم ۔

نبوت کے متعلق عقائد

عقیدہ (): اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہِ السلام کوبغیر ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا اور اپنا خلیفہ اور نائب بنایااور تمام چیزوں کے اسما کا علم دیا ، فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم علیہِ السلام کو سجدہ کریں ، سب نے سجدہ کیا، سوائے شیطان کے کہ از قسمِ جِن تھا ، مگر بہت بڑا عابد ،عبادت گزار تھا، سجدے سے انکار کیاتو ہمیشہ کے لیے مردود ہوا۔

عقیدہ (): حضرت آدم علیہِ السلام سے پہلے انسان کا وجود نہ تھا، سب انسان حضرت آدم علیہِ السلام کی اولاد ہیں ، اسی و جہ سے انسان کو آدمی کہتے ہیں ، یعنی اولادِ آدم اور حضرت آدم علیہِ السلام کو ابو البشر کہتے ہیں ، یعنی سب انسانوں کے باپ۔

عقیدہ (): تمام انبیاء کے مختلف درجے ہیں ، بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب میں افضل ہمارے آقا و مولی سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم ہیں حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم کے بعد سب سے بڑا مرتبہ مقام حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہِ السلام کا ہے،پھر حضرت موسی علیہِ السلام ، پھر حضرت عیسی علیہِ السلام اور حضرت نوح علیہِ السلام کا، اِن حضرات کو مرسلین اولو العزم کہتے ہیں اور یہ پانچوں انبیاکرام کو باقی تمام انبیا و مرسلینِ انس و ملک و جن و جمیع مخلوقاتِ الہی سے فیضلت حاصل ہے ۔ جس طرح حضور صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم تمام رسولوں کے سردار اور سب سے افضل واعلی ہیں ، بلا تشبیہ حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم کی امت محمدتمام امتوں سے افضل ہے۔

عقیدہ (): حضور، خاتم النبیین ہیں ، یعنی اللہ عزوجل نے سلسلہ نبوت حضورصلی اللہ علیہِ تعالی وسلم پر ختم کر دیا ، کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہِ تعالی وسلم کے زمانہ میں یا بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا، کیونکہ جو بھی نبوت کا دعوہ کریگا وہ کافر ہے، کافر ہے۔

غازی کا پیغام ،قادیانی کا انجام غازی فیصل کا ختم نبوت کے حوالے سے پیغام

ختم نبوت قرآن اور احادیث کی روشنی میں امت کی رہنمائی کیلئ

صحابہ کرام کی حضور سے محبت کا انداز عاشقان رسولﷺ کے لی

پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی ۔ لاہور ہائی کورٹ کا انتہائی اہم فیصل

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.