یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی مقرر کیوں کیا

یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی مقرر کیوں کیا قائداعطم محمد علی جناح نے15 کی بجائے14 اگست کو آزادی منانے کی منظوری دی تاکہ برطانیہ کی فتوحات کی تا ریخ سے علیحدہ کیا جائے۔

0 167

یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی مقرر کیوں کیا

یوم آزادی14یا15اگست پاکستان کے پہلے ڈاک ٹکٹ پر یوم آزادی 15 اگست درج ہے، ناظرین پاکستان اور ہندوستان ایک ہی دن یعنی 15اگست کو آزاد ہوئے مگر ہم پاکستانی جشن آزادی 14 اگست اور ہندوستانی 15اگست کوکیوںمناتے ہیں؟ناظرین سینئر صحافی حامد میر اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔پاکستان کا اصلی یومِ آزادی 14اگست ہے یا 15اگست؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بہت بحث ہو چکی اور بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تحقیق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت کی کاغذات کے مطابق انڈیا کی طرح 15اگست کو پاکستان بھی دنیا کے نقشے میں ظاہر ہوا ۔یوم آزادی 14 یا 15 اگست کو قائداعظم نے 14 اگست کو یوم آزادی کی منظوری دے دی۔

یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی منانے کا فیصلہ

لیکن جولائی 1948کوپاکستان کی حکومتِ نے یہ فیصلہ کیا کہ آزادی کی پہلی سالگرہ 15اگست کی بجائے یوم آزادی کا دن 14اگست 1948کو منایا جائے ۔
یہ بھی یاد ہونا ضروری ہے کہ 9جولائی 1948کوِ پاکستان کی حکومت نے جو پوسٹ آفس ٹکٹ جاری ہوئے ان پر بھی پاکستان زندہ باد کے ساتھ 15اگست 1947کی تاریخ لکھی تھی اب یہ سوال ضروری ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اپنی آزادی کا دن15اگست کی بجائےیوم آزادی 14اگست کو منانے کا اعلان کیوں کیا؟یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنے کیلئے تحقیق کی جائے تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلو ظاہر ہوتے ہیں جن کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا ہے۔برطانوی مصنف ہیکٹر بولیتھ کی قائداعظم کے مطلق سوانح عمری 1954میں شائع کی گئی تو اس میں قائداعظم محمد علی جناح با نی پاکستان کی زندگی اور کردار کے اہم گوشوں کو شائع کیا گیا جس پر محترمہ فاطمہ جناح ناراض تھیں۔

یوم آزادی15 /14اگست منانے کی تجویز

بعداوقات اسٹینلے والپرٹ سمیت کئی اور محققین نے قائداعظم کے بارے میں کتابیں لکھیں لیکن اس میںاس پہلو پر توجہ نہیں دی کہ قائداعظم محمد علی جناح نے 15اگست کی بجائے 14اگست کو آزادی کا دن منانے کی منظوری کیوں دی؟ یہاں میں نے منظوری کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ کچھ سرکاری کاغذات کے مطابق پاکستان میں یوم آزادی کادن 14اگست کو منانے کی تجویز پر پہلی دفعہ 29جون 1948کو وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کی صدارت میں پارلیمنٹ کااجلاس ہوا جس میں یہ تجویز قائداعظم محمد علی جناح کی منظوری سے مشروط کی ہوئی اور پھر ایک اور دستاویز بھی موجودہے جس میں قائداعظم محمد علی جناح نے یومِ آزادی 14اگست کو منانے کی منظوری دیدی ۔

یوم آزادی 14اگست، قائداعظم کی زندگی کا مطالعہ

قائداعظم کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک سادہ سے مسلمان تھے لیکن وہ برطانیہ کے سامراجی نظام کے بہت مخالف تھے۔ پاکستان کی تحریک کے ایک ممبر سینئر صحافی شریف فاروق نے قائداعظم کو نزدیک سے دیکھا۔انہوں نے 23مارچ 1940کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ آپ کی کتا ب جنا ح برصغیر کا مردِ حریت اس طرح منفردانداز میں بیان کیا ہے کہ اس کتاب میں قائداعظم محمد علی جناح کی برطانیہ کے سامراجی کردار کی نفرت اور مخالفت کو واقعات سے واضع کیا ۔وہ بیان کرتے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح کا کانگریس سے دورہونا گاندھی کا دوغلا رویہ تھا لیکن جب قائداعظم نے کانگریس کے نام نہاد پلیٹ فارم کو چھوڑا تو پھر برطانوی حکومت انہیں مختلف عہدے دے خریدنے کی کوشش کی۔قائداعظم محمد علی جناح نے یہ سب کچھ یوم آزادی کی خاطر کیا۔

 یوم آزادی 14 اگست

یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی مقرر کیوں کیا

قائداعظم کا پیشکش کو رد کرنا
پہلے جناح کو بمبئی ہائیکورٹ میں جج کی پیشکش کی جو آپ نے رد دی۔پھر قائداعظم کو ایڈووکیٹ جنرل کی پیشکش کی وہ بھی مسترد کر دی۔ وائسرائے ہندلارڈ ریڈنگ نے قائداعظم کو وزیرقانون کی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا۔برطانوی وزیراعظم ریمزے میکڈونلڈ نے قائداعظم کو ریاست کا گورنر بنانے کی پیشکش کی تو انہوں نے اسے بھی مسترد کر دیا۔ 1940میں کانگریس کے لیڈر راج گوپال اچاری نے پہلی مرتبہ قائداعظم کو متحدہ ہندوستان کے وزیراعظم کی مشورہ دیا۔ لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے حصول کے لیے سب کو ٹھکرا دیا۔1947میں یہ پیشکش مہاتما گاندھی نے کی لیکن قائداعظم نے لارڈ مائونٹ بیٹن کے ماتحت وزیراعظم بننے کی تجویز کو مسترد کردیا ۔آزادی کی خاطر سب کوششیش ناکام بنا دیں۔یہ سب کچھ یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی پاکستان منانے کی خاطر کیا۔

قائداعظم محمد علی جناح پر الزامات

وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح نے انگریزوں کے کہنے پر پاکستان کا مطالبہ کیا ان کومیرا چیلنج ہے کہ برطانوی حکومت کے ساتھ خفیہ دوغلی کانگریس کی قیادت نہیں کی قائداعظم نے ۔وہ قائداعظم جنہوں نے 12اور 14ستمبر 1929کو سنٹرل لیجسلیٹو اسمبلی میں بھگت سنگھ کی سپورٹ میں تقریر کی وہ برطانوی سامراج کے ساتھ کیسے چل سکتے تھے؟برطانوی سامراج اور کانگریس کے خفیہ گٹھ جوڑ کا ایک بڑا واضع ثبوت یہ ہے کہ کانگریس نے پہلے لارڈ مائونٹ بیٹن کو 15اگست 1947کے دن ہندوستان کا گورنر جنرل مانا لیا اور پھر 15اگست کو یومِ آزادی کے طور پر قبول کر لیا۔ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے خلاف15اگست دراصل کامیابی کا دن تھا۔

یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی کا فیصلہ اس لیے کیاکہ ہماری آزادی کی تاریخ الگ ہونی چاہیے۔

یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی مقرر کیوں کیا6اگست 1945کو جاپان کے شہر ہیروشیما اور 9اگست1945 کو ناگا ساکی امریکا نے ایٹم بم پھینکے۔ جس کی وجہ سے15اگست 1945کو جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیتو نے سرنڈر کی اطلاع دی۔ مائونٹ بیٹن اتحادی افواج کا کمانڈر برائے جنوب مشرقی ایشیا تھا اور سنگاپور میں تھا۔ اسی دن اتحادی فوج کوریا سے واپس ہو گئی لہذا جنوبی کوریا اور شمالی کوریا دونوں کا یومِ آزادی 15اگست ہے۔کانگریس 1929 تا 1947تک جو ہر سال 26جنوری کو پورناسوراج یعنی مکمل آزادی کے دن طور پر منائی جا رہی تھی۔

ہندوستان اور پاکستان کی آزادی

جب برطانوی کابینہ نے برٹش آزادی بل کے ذریعہ 15اگست کو پاکستان اور ہندوستان کو یوم آزادی کا بل منظور کر دیا تو کانگریس خاموش ہو گئی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے مائونٹ بیٹن کا پاکستان کے گورنر جنرل کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان میں ٹرانسفر آف پاور کا پروگرام 14اگست 194کو ہوا۔اس دن مائونٹ بیٹن نے قانون ساز اسمبلی سے مخاطب ہوتے ہوئے شہنشاہ اکبر کی رواداری کا اظہار کیا تو قائداعظم محمد علی جناح نے جوابی تقریر میں فرمایاکہ ہم نے رواداری اکبر سے نہیں حضرت محمدۖ سے سیکھی ہے۔ 14اور 15 اگست کی درمیانی شب کو پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا۔ اکثر محققین کے خیال میں 27رمضان المبارک 15اگست کو تھی۔اس دن مائونٹ بیٹن ہندوستان نے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا اور پنڈت مائونٹ بیٹن زندہ باد کے نعروں سے ان کا خوش آمدید کہا۔چند مہینوںکے بعد ہی پنڈت مائونٹ بیٹن اور کانگریسی قیادت کا میل جول کھل کر سامنے آگیا۔ جونا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ شمولیت کا اعلان کیا تو پنڈت مائونٹ بیٹن نے انڈیا کو جونا گڑھ پر حملے کا حکم د یدیا اور مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کا ہندوستان سے شمولیت کا اعلان کیا تو پنڈت مائونٹ بیٹن نے اسے قبول کر لیا۔

یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی منانے کا فیصلہ

کے ایچ خورشید گرفتاری اور رہائی

قائداعظم محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری K H خورشید مہاراجہ سے ملنے سرینگر گئے ان کو وہاں گرفتار کرلیا اور بعدمیں گلگت بلتستان کے گورنر بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کے تبادلے میں ان کو رہا کروایا۔ قائداعظم محمد علی جناح کو معلوم تھا 1931سے 1947تک 14اگست کو یوم کشمیر کے طور پر منایا جاتا تھا۔ علامہ اقبال نے لاہور میں پہلا یوم کشمیر 14اگست 1931کومنایا لہذا قائداعظم محمد علی جناح نے 15اگست کی بجائے 14اگست کو آزادی کا دن منانے کی منظوری دی تاکہ برطانیہ کی فتوحات تاریخ کوپاکستان کی تاریخ سے علیحدہ کرکے تحریک آزادی کوکشمیر کی تاریخ سے ملا دیا جائے۔

یوم آزادی14یا15اگست قائداعظم نے14اگست یوم آزادی منانے کا فیصلہ

پنڈت مائونٹ بیٹن نے 15 اگست 1947کوہندوستان کے گورنر جنرل کے طور حلف اٹھایا اور قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پرحلف اٹھاتے ہوئے تاج برطانیہ سے وفاداری کی بجائے یہ الفاظ بیان کیے میں پاکستان کے بننے والے آئین کا وفاداررہوں گا لہذا قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں سامراجی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے والوں کو دوست نہیں دشمن سمجھا جائے گا۔

دعاء الاستخارة اہمیت اور فضیلت شادی کے لیے استخارہ

غازی کا پیغام ،قادیانی کا انجام غازی فیصل کا ختم نبوت کے حوالے سے پیغام

کائنات کیسے تخلیق ہوئی ۔ مختلف سائنسی نظریات کا جائزہ

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.