سورۃ مریم کا تعارف اور انبیاء کرام کے واقعات کا ذکر اور اللہ کا انعام

 سورۃ مریم کا تعارف اور انبیاء کرام کے واقعات کا زکر اور اللہ کا انعام اس سورت میں حضرت مریم رضِی اللہ تعالی عنہاکی عظمت ، آپ کے واقعات اور حضرت عیسی علیہِ الصلو والسلامکی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیاہے ،اس مناسبت سے اس سورت کانام سورہ مریم رکھا گیا ہے۔

0 146

 سورۃ مریم کا تعارف اور انبیاء کرام کے واقعات کا ذکر اور اللہ کا انعام

الحمد لِلہِ ربِ العلمِین و الصلو والسلام علی سیِدِ المرسلِین اما بعد فاعوذ بِاللہِ مِن الشیطنِ الرجِیمِ بِسمِ اللہِ الرحمنِ الرحِیم. سورۃ مریم

سورۃ مریم کا تعارف

مقامِ نزول:سورئہ مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(خازن، تفسیر سور مریم۔۔۔ الخ 228/ 3)

رکوعاورآیات کی تعداد:

اس سورت میں6رکوع،98آیتیں ہیں ۔

مریم نام رکھنے کی وجہ :

اس سورت میں حضرت مریم رضِی اللہ تعالی عنہاکی عظمت ، آپ کے واقعات اور حضرت عیسی علیہِ الصلو والسلامکی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیاہے ،اس مناسبت سے اس سورت کانام سورہ مریم رکھا گیا ہے۔

سورہ مریم سے متعلق احادیث:

(1) جب چند مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو کفارِ مکہ نے تحائف دے کر اپنے دو نمائندے حبشہ بھیجے تاکہ وہ ان مسلمانوںکو وہاںسے واپس لے آئیںجب وہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو اس نے کہا کہ میں پہلے ان مسلمانوں کا موقف معلوم کر لوں ، چنانچہ مسلمانوں کو جب اس کی دربار میں بلایا گیا اور حضرت جعفر بن ابو طالب رضِیاللہتعالیعنہ سے اس کی گفتگو ہوئی تو اس نے کہا :کیا آپ کے پاس اس کلام کا کوئی حصہ ہے جواللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا۔ حضرت جعفررضِی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ،ہاں ہے، پھر اس کے سامنے آپ رضِی اللہ تعالی عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت کی ، حضرت امِ سلمہ رضِی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں اللہ عزوجل کی قسم! نجاشی سورہ مریم سن کر اتنا رویا کہ اس کی داڑھی بھیگ گئی اور اس کے دربار میں موجود وہ لوگ جن کے سامنے مصاحف کھلے ہوئے تھے اتنا روئے کہ ان کے مصاحف بھیگ گئے ،پھر نجاشی نے کہا: بے شک یہ دین اور جو دین حضرت موسی علیہِ الصلو والسلام لے کر آئے یہ ایک ہی طاق سے نکلے ہیںاور کفار کے نمائندوں سے کہا: تم لوگ یہاں سے چلے جاو ،خدا کی قسم ! میں کبھی بھی انہیں تمہارے حوالے نہیں کروںگا۔(مسند امام احمد، حدیث جعفر بن ابی طالب وہو حدیث الہجر، /، الحدیث:،ملخصا)

(2)حضرت ابو مریم غسانی رضِی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:یارسولاللہ!صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم، آج رات میرے ہاں لڑکی کی ولادت ہوئی ہے۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج رات مجھ پر سورہ مریم نازل کی گئی ،تم ا س کانام مریم رکھ دو۔ چنانچہ اس لڑکی کا نام مریم رکھ دیا گیا۔(معجم کبیر، من یکنی ابا مریم، ابو مریم الغسانی۔۔۔ الخ، / الحدیث: )

سورہ مریم کے مضامین:

سورہ مریم کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں انبیاِ کرام علیہِم الصلو ۃ والسلام کے واقعات کے ضمن میں اللہ تعالی کے وجود ،اس کے واحد و یکتا ہونے،اللہتعالی کی قدرت اور قیامت کے دن مخلوق کے دوبارہ زندہ ہونے اور اعمال کی جزا و سزا ملنے کوثابت کیا گیا ہے۔ اور اس سورت میں یہ مضامین اور واقعات بیان کئے گئے ہیں۔

سورۃ مریم کا تعارف اور انبیاء کرام کے واقعات کا زکر

:(1) ۔۔سورۃ مریم  میں حضرت زکریاعلیہِ الصلوۃ والسلام کے فرزند حضرت یحیی علیہِ الصلوۃ والسلام کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیا اور یہ واقعہ اللہ تعالی کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے، کیونکہ حضرت یحیی علیہِ الصلوۃ والسلام کی ولادت اس وقت ہوئی جبکہ آپ کے والد حضرت زکریا علیہ ِالصلو ۃوالسلام کافی زیادہ عمر کو پہنچ چکے تھے اور آپ علیہِ الصلوۃ والسلام کی والدہ بانجھ تھیں اور ایسی صورتِ حال میں عادت کے برخلاف حضرت یحیی علیہِ الصلوۃ والسلام کی ولادت ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔نیز حضرت زکریا علیہِ الصلوۃ والسلام کی نیک بیٹے کی مانگی ہوئی دعا مقبول ہونے اور حضرت یحیی علیہِ الصلو والسلام کو بچپن میں ہی منصبِ نبوت سے سرفراز کئے جانے کا ذکر ہے۔

سورۃ مریم کا تعارف اور انبیاء کرام کے واقعات کا زکر(2) اس کے بعد حضرت عیسی علیہِ الصلوۃ والسلام کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیا کہ اللہ تعالی نے فطری طریقے سے جداگانہ طریقے سے اپنی نیک بندی حضرت مریم رضِی اللہ تعالی عنہاسے اپنے بندے حضرت عیسی علیہِ الصلو والسلام کو بغیرباپ کے پیدا کر دیا، اور یہ واقعہ اللہ تعالی کی عظیم قدرت کی دوسری بڑی دلیل ہے کہ انسان کو پیدا کرنا مرد اور عورت کے ملاپ پر ہی موقوف نہیں بلکہ اللہ تعالی چاہے تو مرد وعورت کے ملاپ کے بغیر بھی انسان پیدا کر سکتا ہے اور خالق ِحقیقی اللہ تعالی ہی ہے۔

(3) سورۃ مریم  میں حضرت عیسی علیہِ الصلوۃ والسلام کی ولادت کے وقت حضرت مریم رضِی اللہ تعالی عنہا کو دی جانے والی تسلی اور ان پر کئے جانے والے انعامات ذکر کئے گئے۔

(4) یہ بیان کیا گیا کہ حضرت عیسی علیہِالصلو والسلام کی ولادت کی وجہ سے حضرت مریم رضِی اللہ تعالی عنہا نے کس طرح لوگوں کے طعن و تشنیع اور ملامت کا سامنا کیا اور کس طرح حضرت عیسی علیہِ الصلوۃ والسلام نے جھولے میں اپنی والدہ کی پاک دامنی بیان کی اور اپنی نبوت کا اعلان فرمایا۔

(5) حضرت عیسی علیہِ الصلوۃ والسلام کی ولادت سے یہودیوں اور عیسائیوں میں اختلاف پڑنے کا ذکر ہے۔

(6) سورۃ مریم میں حضرت ابراہیم علیہِ الصلوۃ والسلام کی اپنے عرفی باپ آزر سے بتوں کی پوجا کے بارے میں ہونے والی بحث بیان کی گئی اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ رضِی اللہ تعالی عنہاکے بانجھ ہونے کے باوجود ان کے ہاں دو بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہِم ا الصلوۃ والسلام کی ولادت اور انہیں نبوت ملنے کا ذکر کیا گیا۔

(7)طور پر حضرت موسی علیہِ الصلوۃ والسلام کی اللہ تعالی سے مناجات کرنے اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہِالصلو والسلام کو نبوت ملنے کا واقعہ بیا ن کیا گیا۔

(8) حضرت اسماعیل کا ذکر کیا گیا کہ وہ وعدے کے سچے تھے اور وہ اپنے گھر والوں کو اور اپنی قوم جرہم کو نماز اور زکوۃ کی ادائیگی کا حکم دیتے تھے۔ حضرت ادریس علیہِم ا الصلوۃ والسلام کے واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ بیان کیا گیاہے کہ اللہ تعالی نے حضرت آد م علیہِ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے ان انبیاِ کرام علیہِم الصلو والسلام پر انعام فرمایااور انہیں لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔

(9) نیک لوگوں کے بعد آنے والوں کا اپنی نمازیں ضائع کرنے اور اپنی باطل خواہشوں کی پیروی کرنے کا ذکر ہے اور جن لوگوں نے توبہ کی، ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اور یہ بیان کیاگیا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہِ السلام اللہ تعالی کے حکم سے ہی وحی لے کر نازل ہوتے ہیں ۔

(10) مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والے مشرکین کا ذکر کیا گیا اور انہیں خبر دی گئی کہ ان کا شر شیاطین کے ساتھ ہو گا اور انہیں جہنم کے آس پاس گھٹنوں کے بل گرا کر حاضر کیا جائے گا۔

(11) سورۃ مریم میں مسلمانوں سے قرآن پاک سنتے وقت مشرکین کا موقف بیان کیا گیا اور سابقہ امتوں کی سرکشی اور ایمان قبول کرنے سے تکبر کرنے کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہو نے کا ذکر کر کے ان مشرکین کو ڈرایا گیا ہے نیز یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی ظالموں کو مہلت دیتا ہے اور اہلِ ایمان کی ہدایت کو زیادہ کرتا ہے اوراللہ تعالی اولاد سے پاک ہے اور جنہوں نے اللہ تعالی کی طرف اولاد کی نسبت کی انہیں عذاب سے ڈرایا گیاہے۔

(12) یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ایمان والوں کوجنت میں داخل کرے گا اور کا فروں کو جہنم کی طرف ہانک دے گا۔

سورہ کہف کے ساتھ مناسبت:

سورہ مریم کی اپنے سے ماقبل سورت کہف کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح سورہ کہف میں انتہائی عجیب غریب واقعات ذکر کئے گئے جیسے اصحابِ کہف کاواقعہ، حضرت موسی اور حضرت خضرعلیہِم ا الصلوۃ والسلام کا واقعہ اور حضرت ذوالقر نین رضِی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ ،اسی طرح سورہ مریم میں بھی عجیب و غریب واقعات ذکر کئے گئے کہ حضرت زکریاعلیہِ الصلوۃ والسلام کے ہاں بڑھاپے میں اور ان کی زوجہ محترمہ کے بانجھ ہونے کے باوجود حضرت یحیی علیہِ الصلو والسلام کی ولادت ہوئی اور حضرت عیسی علیہِم ا الصلوۃ والسلام کی بغیر والد کے ولادت ہوئی۔(تناسق الدرر، سور مریم،ص 101)

سورت مریم کی تلاوت سنیے

پاکستان میں 4 مہینوں میں یومیہ سب سے کم COVID 19 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں.

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی اگلی منزل ہے۔ آج کا ارتغرل رجب طیب اردوان ہے

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.