استاد کا مقام یا استاد قوم کا محسن ہے اورمعمار بھی ۔استادعظیم ہستی ہے

             استاد قوم کا محسن بھی ہوتا ہے اور معمار بھی ۔استاد وہ عظیم ہستی ہے جس کا مقام بہت بلند ہے استاد نونہالان وطن کی تعلیم کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ۔ استاد کی وجہ سے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

0 1,254

                      استاد کا مقام یا استاد قوم کا محسن ہے

تیرے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی
استاد قوم کا محسن
استاد قوم کا محسن بھی ہوتا ہے اور معمار بھی ۔استاد وہ عظیم ہستی ہے جس کا مقام بہت بلند ہے استاد نونہالان وطن کی تعلیم کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ۔ استاد کی وجہ سے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ استاد بچوں کو جہالت کے گڑھے سے نکال کر علم کے نور کی طرف لے جاتا ہے ۔والدین کی جن معزز ہستیوں کی اطاعت ہم پر لازم ہیں۔ وہ ہمارے اساتذہ کرام ہیں کیوں نہ کہ اگر والدین ہماری جسمانی نشونما کا سامان فراہم کرتے ہیں تو اساتذہ ہمارے روحانی تربیت کا سبب بنتے ہیں۔
ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت
ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت
درس و تدریس انبیاء کی وراثت استاد ہی نوجوانوں کو علوم و فنون سے روشناس کرواتا ہے ۔یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو انبیا کی وراثت ہے۔ ایک اچھا استاد ہیں قوم کے بچوں کو تعلیم و تربیت سے بہرہ مند کر کے انہیں مفید شہری بنا سکتا ہے۔
لفظ پھر لفظ ہیں جذبوں کو سمیٹیں کیونکر
کیسے کر پاں میں اظہار عقیدت تجھ سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ترجمہ بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں حضرت علی فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا استاد ہے اور میں اس کا غلام ہوں چاہے تو مجھ کو آزاد کر دے جا رکھ لیں ۔
قرآن کی روشنی میں قرآن پاک میں بار بار علم والوں اور اور جاہلوں کا آپس میں فرق بیان کیا گیا ہے
ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کیا جانے والے عالم اور نہ جانے والے جاھل برابر ہو سکتے ہیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ترجمہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے علم سیکھو اور علم کے لئے سقینا اور وقار اختیار کرو جس سے اور جس سے علم سیکھتے ہو اس کے ساتھ ادب و تواضع سے پیش آئو ۔
اس حدیث شریف میں علم حاصل کرنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ استاد کے ادب و احترام کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
کسی دانا کا قول ہے
استاد کا ادب کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے اور حضرت علی کا قول ہے فرمایا میں اس شخص کا غلام ہوں جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا اگر وہ چاہے تو مجھے بیچ دے اور اگر چاہے تو آزاد کردے اور اگر چاہے تو غلام بنا لے۔
استاد محسن انسانیت
استاد محسن انسانیت ہے اور انسانیت کے لیے اس کا مقام اور مرتبے کا وسیلہ بنتا ہے ۔کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا امام غزالی فرماتے ہیں جب تم علم کو اپنا سب کچھ نہ دے دو علم تمہیں اپنا کوئی حصہ نہیں دے گا ۔
سکندر اعظم اور استاد
سکندر اعظم کہا کرتا تھا کہ میں استاد کی اپنے باپ سے زیادہ عزت کرتا ہوں ۔کیونکہ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا اور میرے استاد نے مجھے علم کے ذریعے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ استادعالم کی اشاعت کرتے ہیں اور اس علم کی بدولت قومیں ترقی کرتی ہیں۔
استاد اور شاگرد کا تعلق علم کی بنیاد پر
استاد اور شاگرد کا تعلق علم کی بنیاد پر ہوتا ہے شاگرد اپنے علوم کو استاد سے لیتا ہے گویا استاد ایک دریا ہے جس میں علم کا پانی موجیں مارتا ہے اور شاگرد اس دریا میں غوطے لگا کر اس کی گہرائی اور گہرائی سے موتی ہیرے اور جواہرات نکال کر اپنے دامن میں بھرتا ہے۔ یا یوں سمجھیں کہ استاد اور شاگرد کی مثال ایک چمنستان کی سی ہے۔ کے استاد دامن کا روح رواں ہوتا ہے ۔جس سے چمن کی رونق بہار رہتی ہے اور چمن خوش منظر قائم رہتے ہیں اور شاگرد اس چمن کا ایک پھول ہوتا ہے۔ جس سے خوشبو پھیلتی ہے اور فضا علم کی خوشبو سے معطر ہو کر قلب و جگر کو سکون اور ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔ چمن کی آبادی پھول سے ہوتی ہے اور پھول اہمیت چمن کے مرہون منت ہے ۔گویا دونوں ایک دوسرے کی پہچان ہوتے ہیں۔ اس طرح شاگرد اور استاد کی پہچان اور اس کی قابلیت کے عملی جوہر کا مظہر ہوتا ہے استاد شاگرد کی قابلیت کے جوہر اور اس کی استعداد کا منبع اور محور ہے۔
بقول اقبال
شیخ مکتب ہے اک عمارت گر
جس کی صنعت ہے روح انسانی

 

 استاد قوم کا محسن

استاد کے ادب و احترام اور تعظیم کے بار ے میں چند اکابرین امت کے اقوال اور احوال کو سامنے رکھتے ہیں تاکہ اندازہ ہو جائے کہ استاد کا ادب و احترام کتنا ضروری ہے۔
امام اعظم ابو حنیفہ اپنے استاد حضرت حماد کا بہت زیادہ ادب کرتے تھے ۔حتی کے اپنے بیٹے کا نام بھی اپنے استاد کے نام سے رکھا ۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں ادب کی وجہ سے کتاب کا ورق بھی آہستہ الٹاتا تھا کہ اس کی وجہ سے میرے استاد کو تکلیف نہ ہو۔
امام بخاری حدیث نے امیرالمومنین ہیں ان سے کسی نے اس کی خواہش پوچھی تو فرمایا کہ میری خواہش بھی یہی ہے کہ میرے استاد علی بن مدینی زندہ ہوتے اور میں جاکر ان کی صحبت کرتا اور ان کی خدمت کرتا۔
امام احمد بن حنبل ایک مرتبہ کسی وجہ سے یہ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے گفتگو کے دوران میں ان کے استاد ابراہیم بن طعمان کا ذکر آیا ان کا نام سنتے ہی فورا سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا یہ نازیبا بات ہوگی کہ میں بڑوں کا نام لیا جائے اور ہم ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔
ایک شاعر نے بجا کہا ہے کہ
بے خبر اب تو ہے دولت ہی شرافت کا نشان
لوگ پہلے کبھی تحویل نسب کرتے تھے
اب تو شا گر دوں کا استاد ادب کرتے ہیں
سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے۔

ان اکابرین نے اپنے اساتذہ کرام کا جو ادب و احترام کیا اس کی وجہ سے باری تعالی نے ان کو بلندیوں تک پہنچایا ۔ اور آج ہم ان لوگوں کا نام لیتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں تو ہمیں ان اکابرین کی طرح اپنے اساتذہ کرام کا ادب بھی کرنا چاہیے۔
ایک اہم ادب
ایک اہم ادبی ہے کہ استاد کی خدمت کو اپنے لئے سعادت اور خیر و برکت کا سبب سمجھیے۔

استاد قوم کا محسن ہے اور معمار

خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے بیٹے کو امام اصمعی کی خدمت میں تعلیم و تربیت کے لیے بھیجا ایک دن جب خلیفہ اپنے بیٹے کو ملنے گیا تو دیکھا کہ شہزادہ پانی ڈال رہا ہے اور استاد وضو کرتے ہوئے اپنے پائوں دھو رہا ہے ۔خلیفہ نے استاد سے کہا میں نے تو اپنے بیٹے کو آپ کے پاس تربیت کے لیے بھیجا تھا۔ اگر آپ اس کو ادب سکھاتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔استاد نے فرمایا کہ یہ پانی تو ڈال رہا ہے خلیفہ نے جواب دیا کہ حضرت آپ اسے حکم دیتے یہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالتا اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پائوں دھوتا تب ٹھیک ہوتا ۔
قاضی فخر الدین مسرو شہر کے اماموں کے امام تھے بادشاہ بھی ان کا بہت احترام کرتا تھا ۔وہ فرماتے تھے کہ میں جو اس رتبے تک پہنچا ہوں اپنے استاد کی خدمت کی وجہ سے پہنچا ہوں ۔کیوں کہ میں نے اپنے استاد کا تیس سالہ کھانا پکایا مگر کبھی ایک لقمہ بھی اس میں سے نہیں چکھا۔ سچ ہے با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب
بقول شاعر
کس کامل سے یہ پوشیدہ ہنر کر
کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا

اسلامی معاشرے میں عورت کامقام ،مرتبہ اورعورت بقائےانسانی کی ضامن ہے

مکمل نظام تعلیم اردو میں کرنے کا فیصلہ سکول کھولنے کے حوالے سے اہم اعلان

Leave A Reply

Your email address will not be published.